| شہادت کے وقت آپ کي عمر: آپ کی شہادت کے وقت آپ کی عمر کتنی تھی؟ اس کے بارے میں بھی مختلف اقوال ہیں۔ چنانچہ بعض کے نزدیک آپ ترپن (53) سال کے تھے اور بعض کے نزدیک پینسٹھ(65) سال اور بعض کے نزدیک تریسٹھ (63) سال کے تھے۔ آخر الذکر قول سب سے زیادہ صحیح ہے۔[1] 8۔شہادت علی کے بعد آپ کے بیٹے حسن کا خطبہ: عمرو بن حبنشی کا بیان ہے کہ علی رضی اللہ عنہ کی وفات و تدفین کے بعد حسن رضی اللہ عنہ نے ہمیں خطاب کیا، فرمایا: لوگو! کل تم سے ایک ایسا شخص رخصت ہوگیا ہے جس سے نہ اگلے علم میں پیش قدمی کرسکے اور نہ بعد میں آنے والے اس کی برابری کریں گے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انھیں جھنڈا دے کر بھیجتے تھے تو فتح ان کے ہاتھ پر ہوتی تھی، اس نے سونا چاندی کچھ نہ چھوڑا، صرف اپنے روزینہ میں سے کاٹ کر سات سو درہم گھر کے لیے جمع کیے تھے۔[2] 9۔ امیر المومنین علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے توصیفی کلمات: ربیعہ الجرشی سے روایت ہے کہ ایک آدمی کے پاس علی رضی اللہ عنہ کا تذکرہ ہوا، وہاں سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے، آپ فرمانے لگے: کیا تم علی رضی اللہ عنہ کی باتیں کرتے ہو، ان کے چار ایسے فضائل ہیں کہ اگر ان میں کوئی ایک بھی مجھے مل جائے تو وہ مجھے سرخ اونٹوں سے بھی زیادہ محبوب ہے، ان میں ایک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا: ((لَاُعْطِیَنَّ الرَّاْیَۃَ غَدًا… الخ)) کل ایک ایسے آدمی کو جھنڈا دوں گا…، دوسرا آپ کا فرمان کہ((اَنْتَ مِنِّی بِمَنْزِلَۃِ ہَارُوْنَ مِنْ مُوْسیٰ)) یعنی تم میری جگہ ایسے ہو جیسے ہارون موسیٰ کے قائم مقام تھے، تیسرا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ ((مَنْ کُنْتُ مَوْلَاہُ فَعَلِیُّ مَوْلَاہُ)) میں جس کا دوست ہوں تو علی اس کے دوست ہیں۔ اور اس خبر کے راوی سفیان چوتھی فضیلت کو بھول گئے۔[3] 10۔ امیر المومنین کے بارے میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے توصیفی کلمات: سعد بن عبیدہ کا بیان ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس ایک آدمی آیا اور ان سے عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں پوچھنے لگا، آپ نے ان کے فضائل و عمدہ کارناموں کا ذکر کیا اورفرمایا: شاید تمھیں یہ بات اچھی نہیں لگی؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: اللہ تیری ناک خاک آلود کرے، پھر اس نے آپ سے علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں پوچھا۔ آپ نے ان کے بھی فضائل اور عمدہ کارناموں کا ذکر کیا۔ اور کہا یہ وہی علی ہیں جن کا گھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروں میں سب سے بہتر گھر تھا، پھر فرمایا: شاید تجھے یہ بات اچھی نہیں لگی؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: اللہ تجھے رسوا کرے، جا نکل جا اور جتنا تیرا بس چلے کرگزر۔[4] |
| Book Name | سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے |
| Writer | ڈاکٹر علی محمد محمد الصلابی |
| Publisher | الفرقان ٹرسٹ خان گڑھ ضلع مظفر گڑھ پاکستان |
| Publish Year | |
| Translator | فضیلۃ الشیخ شمیم احمد خلیل السلفی |
| Volume | |
| Number of Pages | 1202 |
| Introduction |