Maktaba Wahhabi

511 - 1201
نے پوچھا: کیا معاملہ ہے؟ اس نے کہا: انھوں نے میری آنکھوں پر طمانچہ مارا ہے، عمر رضی اللہ عنہ ٹھہر گئے یہاں تک کہ علی رضی اللہ عنہ آپ تک آپہنچے، آپ نے پوچھا: اے ابوالحسن! کیا تم نے اس کی آنکھ پر طمانچہ مارا ہے؟ علی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: ہاں، اے امیرالمومنین! عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کیوں؟ آپ نے جواب دیا اس لیے کہ میں نے دیکھا یہ شخص دوران طواف مومنو ں کی عورتوں پر دزدیدہ نگاہوں سے دیکھتا ہے، عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے ابوالحسن! تو نے اچھا کیا۔[1] 2۔ حدشرعی کی تنفیذ میں مزید کوڑے: سیّدنا علی رضی اللہ عنہ اکثر وبیشتر ایسی ہی تادیبی کارروائی کرتے تھے، چنانچہ آپ نے نجاشی شاعر کو جس نے رمضان میں شراب پی لی تھی کوڑے لگائے او رکہا: میں نے تمہیں بیس کوڑے زیادہ اس لیے لگائے ہیں کہ تم نے اللہ کے سامنے جرأت کی اور رمضان میں یہ جرم کیا۔[2] 3۔ مجرم کو گھمانا: سیّدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنی تادیبی کارروائی میں مجرم کو گھمایا اور لوگوں میں اسے رسوا کیا، جھوٹی گواہی دینے والے کے ساتھ آپ نے یہی برتاؤ کیا، کیونکہ اسی میں معاشرہ کی مصلحت و مفاد پوشیدہ ہے، ورنہ جھوٹی گواہیوں سے حقوق ضائع ہوجائیں گے، چنانچہ علی بن حسین رحمۃ اللہ علیہ کا بیان ہے کہ جب علی رضی اللہ عنہ کسی جھوٹے گواہ کو گرفتار کرتے تو اسے اس کے خاندان اور محلہ میں گھماتے اور کہتے: یہ جھوٹا گواہ ہے اسے خوب پہچان لو اور دوسروں کو بھی بتا دو، پھر اسے چھوڑ دیتے۔[3] زید بن علی رحمۃ اللہ علیہ اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے اور وہ علی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے ایک جھوٹے گواہ کو گرفتار کیا، اسے تعزیری سزا دی، اسے اس کے محلہ میں گھمایا اور ا س کی جھوٹی گواہی کی تشہیر کی اور لوگوں کو منع کردیا کہ اسے کبھی کوئی گواہ نہ بنائے۔[4] 4۔ قید کرنا: سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کبھی کبھار مجرم کو قید کے ذریعہ سے بھی تعزیری سزا دیتے تھے، جیسا کہ آپ نے رمضان میں شراب پینے والے نجاشی شاعر کے ساتھ کیا تھا۔[5] 5۔ پابہ زنجیر قید کرنا: سیّدنا علی رضی اللہ عنہ بدکاروں کو پابہ زنجیر قید کیا کرتے تھے اور کسی ایک شخص کو مکلف کردیتے کہ نماز کے وقت کسی ایک پاؤں کی زنجیر کھول دیا کرے۔[6]
Flag Counter