Maktaba Wahhabi

275 - 1201
عثمان رضی اللہ عنہ پر ترجیح دینے والوں کو ضرور گمراہ کہتے ہیں۔ ان کا ایمان وعقیدہ ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بالترتیب ابو بکر، پھر عمر پھر عثمان، پھر علی رضی اللہ عنہم خلیفہ ہیں، اگر کوئی شخص ان ائمہ کرام میں سے کسی کی خلافت پر اعتراض کرتا ہے تو اپنے گدھے سے بھی زیادہ احمق ہے۔‘‘[1] امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ علی رضی اللہ عنہ پر عثمان ( رضی اللہ عنہ ) کی فضیلت کے مسئلہ میں علما کے اقوال نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں: ’’ اس مسئلہ میں دو قول ہیں، ایک یہ کہ علی رضی اللہ عنہ کو عثمان رضی اللہ عنہ پر فضیلت دینا اور انھیں مقدم جاننا جائز نہیں ہے۔ جو شخص ایسا کرتا ہے وہ سنت سے خارج ہوکر بدعت میں گرفتار ہوجاتا ہے، کیونکہ وہ اجماع صحابہ کا مخالف ہے۔ اسی لیے کہا جاتاہے کہ جس نے علی رضی اللہ عنہ کو عثمان رضی اللہ عنہ پر مقدم کیا اس نے مہاجرین اور انصار دونوں پر تہمت لگائی۔ کئی ایک حضرات کا یہی مسلک ہے۔ انھیں میں سے ایوب سختیانی، احمد بن حنبل اور دارقطنی رحمۃ اللہ علیہم ہیں اور دوسرا قول یہ ہے کہ جس نے علی رضی اللہ عنہ کو عثمان رضی اللہ عنہ پر مقدم کیا اسے بدعتی نہیں کہاجائے گا اس لیے کہ دونوں کے احوال ومناقب تقریباً ملتے جلتے ہیں۔ [2] سیّدناعثمان رضی اللہ عنہ کے دورمیں علی رضی اللہ عنہ بحیثیت مشیر اور حدود نافذکرنے والے 1۔ عہد عثمانی میں حدود کی تنفیذ سیّدناعلی رضی اللہ عنہ کے سپرد : حصین بن منذر کا بیان ہے کہ میں عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس تھا، ولید رضی اللہ عنہ پکڑ کر لائے گئے، دوآدمیوں نے ان کے خلاف گواہی دی کہ انھوں نے شراب پی ہے، گواہی دینے والوں میں ایک حمران بھی تھے اور دوسرے نے گواہی دی کہ میں نے اس کو شراب کی قیکرتے ہوئے دیکھا ہے۔ عثمان رضی اللہ عنہ نے گواہی لینے کے بعد کہا: اگر شراب نہ پی ہوتی تو شراب کی قے کیوں کرتا، لہٰذا اے علی! اٹھو اور اسے کوڑے لگاؤ اور علی رضی اللہ عنہ نے حسن سے کہا، اے حسن! تم اٹھو اور کوڑے لگاؤ، تو حسن رضی اللہ عنہ کہنے لگے: حکومت کی آسائشوں سے جو شخص لطف اندوز ہو مشکلات بھی اسی کے سپرد کرو، گویا انھوں نے اپنی ناراضی کا اظہار کیا، پھر علی رضی اللہ عنہ کہا: اے عبداللہ بن جعفر! اٹھو اور اسے کوڑے لگاؤ، چنانچہ انھوں نے کوڑے مارے اور علی رضی اللہ عنہ انھیں شمار کرتے رہے، جب وہ چالیس کوڑے لگا چکے تو علی رضی اللہ عنہ نے کہا: رک جاؤ، اور پھر فرمایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر نے چالیس، چالیس کوڑے لگائے ہیں اور عمر رضی اللہ عنہ
Flag Counter