Maktaba Wahhabi

691 - 1201
نووی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’قاتل اور مقتول دونوں کے جہنم میں ہونے کو ایسے لوگوں پر محمول کیا جائے گا جس کی لڑائی کی بنیاد کوئی تاویل و اجتہاد نہ ہو بلکہ وہ دونوں محض کسی عصبیت پر لڑ رہے ہوں اور جہنم میں ہونے کا مطلب ہے کہ وہ جہنم کے مستحق ہیں، دنیا میں ان پر یہی حکم لگے گا، آخرت میں اللہ تعالیٰ انھیں جہنم کا بدلہ دے سکتا ہے اور معاف بھی کرسکتا ہے، یہی اہل حق کا مذہب ہے، اس طرح کے جتنے بھی فرمودات نبوی ہیں سب کی یہی تشریح کی جائے گی۔ نیز معلوم ہونا چاہیے کہ صحابہ کے درمیان جو خون ریزیاں ہوئیں وہ اِس وعید میں داخل نہیں ہیں، اس سلسلہ میں اہل سنت و اہل حق کا مسلک یہ ہے کہ ان کے ساتھ حسن ظن رکھا جائے، ان کے اختلافات اور لڑائیوں کے بارے میں زیادہ بحث و مباحثہ سے گریز کیا جائے اور اس کے بارے میں یہی کہا جائے کہ یہ ان سے اجتہادی غلطیاں تھیں، اللہ کی نافرمانی کرنا، یہ نہ ہی دنیا طلب کرنا ان کا مقصد تھا، ہر فریق اپنے کو برحق اور دوسرے کو زیادتی کرنے والا سمجھتا تھا، اس لیے اس سے قتال کو واجب سمجھتا تھا، تاکہ بالمقابل کو اللہ کے حکم کی طرف لوٹائے، ان میں بعض حق پر تھے، اور بعض اپنے اجتہاد میں لغزش کرنے کی وجہ سے غلطی پر تھے، اسی اجتہادی لغزش کی وجہ سے انھیں معذور سمجھا جائے گا، اس لیے کہ مجتہد اگراجتہاد میں غلطی کرجائے تواس پر گناہ نہیں ہے۔ ان لڑائیوں میں اہل سنت و جماعت کے مسلک کے مطابق علی رضی اللہ عنہ حق پر تھے، حالات کی پیچیدگی اور معاملات کے اشتباہ کی وجہ سے حقیقت سامنے نہ آسکی، حتیٰ کہ صحابہ کی ایک جماعت نے حیران ہوکر علیٰحدگی اختیار کرلی، جنگ میں شریک نہ ہوئے، کوئی واضح بات ان کی سمجھ میں نہ آئی اور وہ مدد کرنے سے پیچھے رہے۔‘‘[1] 9۔معرکۂ جمل کی تاریخ: معرکۂ جمل کی تاریخ کا تعین کرنے میں مؤرخین کے اقوال مختلف ہیں: ا: خلیفہ بن خیاط قتادہ کی سند سے لکھتے ہیں کہ دونوں جماعتیں 15/جمادی الاخریٰ 36ھ بروز جمعرات آمنے سامنے ہوئیں، اور لڑائی جمعہ کے دن ہوئی۔[2] ب: مؤرخ عمر بن شبہ لکھتے ہیں کہ 15/ جمادی الاخریٰ 36ھ کو لڑائی ہوئی۔[3] ج: طبری بسند واقدی لکھتے ہیں کہ 10/جمادی الاخریٰ 36ھ بروز جمعرات لڑائی ہوئی۔[4] د: مسعودی لکھتے ہیں کہ بروز جمعرات 10/جمادیٰ الاولیٰ یہ لڑائی ہوئی۔ [5]
Flag Counter