| علیکم و رحمۃاللہ وبرکاتہ۔پھر آپ کی زبان سے آخر میں لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہ کے الفاظ نکلے اور رمضان 40ھ میں آپ اس درافانی سے کوچ کرگئے۔[1] ایک روایت میں آیا ہے کہ آپ 21/رمضان کی صبح قتل کیے گئے۔[2] پس یہ روایت اس دن پر محمول ہے جس میں آپ نے اس دنیا سے کوچ کیا، اس لیے کہ اس بدبخت کی مار کے بعد آپ صرف تین دن باحیات رہے۔[3] 6۔امیر المومنین علی رضی اللہ عنہ اپنے قاتل کا مثلہ کرنے سے منع فرماتے ہیں: چنانچہ آپ نے اپنے قاتل کے بارے میں فرمایا: ’’اس کو قید میں رکھو، اگر میں مرجاؤں تو اسے قتل کردینا اور اگر زندہ بچوں گا تو زخموں کا بدلہ قصاص ہے۔‘‘[4] ایک روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا: ’’اسے کھانا پانی دیتے رہو اور قید کرنے میں نرمی برتو، اگر میں شفایاب ہوگیا تو اپنے خون کا خود ذمہ دار ہوں، اگر چاہوں گا تو معاف کردوں گا اور چاہوں گا تو بدلہ لوں گا۔‘‘[5] ایک دوسری روایت میں اتنی زیادتی ہے کہ اگر میں مرگیا تو میرے قتل کی طرح اسے قتل کردینا اور حد سے تجاوز نہ کرنا، اللہ تعالیٰ حد سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔[6] آپ نے حسن رضی اللہ عنہ کو اپنے قاتل کا مثلہ کرنے سے منع کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ اے بنو عبدالمطلب! میں تمھیں مسلمانوں کے خون میں ڈوبا ہوا نہ پاؤں، کہ تم انھیں یہ کہہ کر قتل کرتے رہو، امیر المومنین قتل کردیے گئے، امیر المومنین قتل کردیے گئے، خبردار ہرگز ہرگز کوئی دوسرا قتل نہ کیا جائے اور اے حسن تم سنو! اگر میں اس کی مار سے مرگیا تو ایک وار کے بدلے اس پر ایک وار کرنا اور قاتل کا مثلہ نہ کرنا، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ((إِیَّاکُمْ وَ الْمُثْلَۃَ وَ لَوْ أَ نَّہَا بِالْکَلْبِ الْعَقُوْرِ۔)) [7] ’’کسی کامثلہ ہرگز نہ کرو، اگرچہ کوئی پاگل کتا ہی کیوں نہ ہو۔‘‘ واضح رہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے اپنے قاتل کے بارے میں جو وصیت کی تھی اس سلسلہ میں مختلف طرح کی روایات وارد ہیں، کچھ صحیح ہیں اور کچھ ضعیف۔ ان میں سے ایک روایت یہ ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے اپنے قاتل کو قتل کردینے کے بعد اسے نذر آتش کردینے کا حکم دے دیا تھا، حالانکہ یہ روایت سنداً ضعیف ہے۔ جب کہ بقیہ تمام روایات کا رخ ایک |
| Book Name | سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے |
| Writer | ڈاکٹر علی محمد محمد الصلابی |
| Publisher | الفرقان ٹرسٹ خان گڑھ ضلع مظفر گڑھ پاکستان |
| Publish Year | |
| Translator | فضیلۃ الشیخ شمیم احمد خلیل السلفی |
| Volume | |
| Number of Pages | 1202 |
| Introduction |