Maktaba Wahhabi

558 - 1201
فساد کی آگ لگا دی، علی رضی اللہ عنہ نے ان حالات کی اطلاع پاکر ابن عباس رضی اللہ عنہما کے نام خط بھیجا کہ سجستان میں دوسرا امیر روانہ کریں، چنانچہ آپ نے حکم کی تعمیل میں ربعی بن کأس العنبری کو روانہ کیا، آپ نے وہاں پہنچ کر ان لٹیروں کی انقلابی شرانگیزی کا صفایا کیا، ان کے لیڈر کو قتل کیا اور ریاستی حالات کو درست کیا اور علی رضی اللہ عنہ کی شہادت تک آپ وہاں کے گورنر بنے رہے۔[1] اسی طرح مشرقی ہمدان بھی ایک سرحدی ریاست تھی، سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں اس کی ایک امتیازی حیثیت یہ تھی کہ آپ نے یہاں کے لیے مستقل ایک گورنر مقرر کردیا تھا، جس وقت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت ہوئی اس وقت جریر بن عبداللہ البجلی رضی اللہ عنہ یہاں کے حاکم اعلیٰ تھے اور جب علی رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے اور عراق پہنچے تو اپنے ایک معتمد آدمی کو خط دے کر جریر بن عبداللہ البجلی رضی اللہ عنہ کے پاس ہمدان بھیجا اوریہ حکم دیا کہ وہاں کے لوگوں سے میری خلافت پر بیعت لے کر میرے پاس آجاؤ۔[2] اور خط میں لکھا تھا کہ میں تمھارے پاس فلاں کو بھیج رہا ہوں تمھیں جو کچھ پوچھنا ہو ان سے پوچھ لینا اور لوگوں کو میرا یہ مکتوب سنا دینا۔[3] چنانچہ علی رضی اللہ عنہ کے پاس کوفہ چلے آئے، آپ نے انھیں شام میں معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا، پھر دوبارہ وہ اپنے عہدہ پر واپس ہوئے لیکن علی رضی اللہ عنہ کے چند فوجیوں جن میں اشتر وغیرہ تھے کی ہتک آمیز شرارت سے آپ دل برداشتہ ہو کر گورنری سے دست بردار ہوگئے اور شام میں معاویہ رضی اللہ عنہ سے جاملے، یہ سب کچھ معرکۂ صفین سے کچھ پہلے ہوا۔[4] 3۔ آذربائیجان: عثمان رضی اللہ عنہ کی وفات کے وقت اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ آذر بائیجان کے گورنر تھے، جب سیّدنا علی رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو آپ نے اشعث کے نام خط ارسال کیا کہ وہاں کے لوگوں سے میری خلافت پر بیعت لو۔[5] ایسا معلوم ہوتا ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ کو بعد میں طلب کیا تھا اور وہ علی رضی اللہ عنہ سے کوفہ میں آملے تھے، پھر تمام لڑائیوں میں آپ کے ساتھ رہے، معرکۂ صفین[6] اور خوارج سے جنگ کرنے میں آپ کے دوش بدوش لڑے۔ تاریخی روایات سے اندازہ ہوتا ہے کہ جب اشعث کوفہ چلے آئے تو اس عرصہ میں علی رضی اللہ عنہ نے سعید بن ساریہ الخزاعی کو آذربائیجان کا گورنر بنادیا تھا۔ پھر اشعث بن قیس کو دوبارہ آذربائیجان بحیثیت گورنر بھیج دیا تھا اور اس دوران آرمینیہ کی ریاست کو بھی آذربائیجان میں شامل کرلیا تھا، جیسا کہ بلاذری نے اس کی صراحت کی ہے۔[7] آذربائیجان پر گورنری کے عہد میں اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ نے چند اہم کارنامے انجام دیے، ان میں سب سے
Flag Counter