Maktaba Wahhabi

336 - 704
ربیعہ اور اس کا بیٹا ولید اور اس کا بھائی شیبہ مقابلے کی آواز لگاتے ہوئے آگے بڑھے اور انصار کے کچھ نوجوان یعنی حارث اور عفراء کے دو بیٹے عوف اور معوّذاور عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہم اُن کے سامنے آئے، انہوں نے پوچھا: تم کون ہو؟ جوانوں نے کہا: انصار کے کچھ افراد، انہوں نے کہا: ہمیں تم سے مقابلہ کرنے کی ضرورت نہیں۔ پھر اُن میں سے ایک نے پُکارا، اے محمد( صلی اللہ علیہ وسلم )! ہمارے مقابلے کے لیے ہماری قوم کے ہم پلہ لوگوں کو آگے بھیجو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: اُٹھو اے عبیدہ بن حارث اور اٹھو اے حمزہ! اور اٹھو اے علی! جب یہ لوگ اُٹھ کر اُن کے قریب گئے تو انہوں نے پھر پوچھا: تم کون ہو؟ عبیدہ رضی اللہ عنہ نے کہا: عبیدہ، اور حمزہ رضی اللہ عنہما نے کہا: حمزہ، اور علی رضی اللہ عنہما نے کہا: علی رضی اللہ عنہ، تب انہوں نے کہا: ہاں، تم ہمارے ہم پلہ اور باعزت لوگ ہو، پھر عبیدہ رضی اللہ عنہ نے عتبہ کا مقابلہ کیا، عبیدہ رضی اللہ عنہ تینوں میں بڑی عمر کے تھے، اور حمزہ رضی اللہ عنہ نے شیبہ کا مقابلہ کیا، اور علی رضی اللہ عنہ نے ولید کا مقابلہ کیا، حمزہ رضی اللہ عنہ نے شیبہ کو بغیر کوئی مہلت دیے قتل کردیا، اور علی رضی اللہ عنہ نے بھی ولید کو بغیر کوئی مہلت دیے قتل کردیا، اور عبیدہ رضی اللہ عنہ اور عتبہ کے درمیان جھڑپیں ہوئیں اور ہر ایک نے اپنے مقابل کو ٹھنڈا کردینا چاہا، تب حمزہ اور علی رضی اللہ عنہما نے اپنی تلواروں سے عتبہ پر حملہ کردیا اور اس کا کام تمام کردیا، پھر اپنے ساتھ عبیدہ رضی اللہ عنہ کو اُٹھاکر اپنے ساتھیوں کے پاس پہنچایا۔ [1] مقابلہ کے اس نتیجہ نے قریش کی فوج پر بہت بُرا اثر ڈالا اور انہوں نے حملہ شروع کردیا لوگ ایک دوسرے کی طرف بڑھے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ مشرکوں پر تیروں کی بارش کی جائے اگر وہ قریب ہونے کی کوشش کریں، اور فرمایا: اگر مشرکین تمہارے قریب آنا چاہیں تو انہیں تیر اندازی کے ذریعہ اپنے آپ سے دور کرو۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی چھاؤنی میں تھے، اور ان کے پاس ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے، اور صحابۂ رسول کا اس جنگ میں شعار ’’اَحد اَحد ‘‘ تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس دن اپنے صحابہ کی صفوں کو درست کیا، آپؐ کے ہاتھ میں ایک تیر تھا، جس سے آپؐ صفیں سیدھی کررہے تھے، پھر آپ خیمے میں لوٹ گئے، آپ کے ساتھ ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے، ان کے سوا اور کوئی آپ کے ساتھ نہیں تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رب سے اس وعدے کو پورا کرنے کا سوال کررہے تھے جو اللہ نے اُن سے کیا تھا، کہتے تھے: اے اللہ! آج مومنوں کی یہ جماعت ہلاک ہوجائے گی تو زمین پر تیری عبادت نہیں کی جائے گی، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کہتے تھے: اے اللہ کے نبی! آپ نے اپنے رب سے بہت دعا کرلی، اللہ یقینا آپ سے کیا گیا اپنا وعدہ پورا کرے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک بار آنکھ جھپکی، پھر آنکھ کھول کر فرمایا: اے ابوبکر! خوش ہوجایے، اللہ کی مدد آپ کے لیے آگئی، یہ جبریل علیہ السلام اپنے گھوڑے کی لگام پکڑے آرہے ہیں، اور اس کی ٹاپوں سے غبار اُڑ رہا ہے، اُس وقت اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا: ((إِذْ تَسْتَغِيثُونَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ أَنِّي مُمِدُّكُم بِأَلْفٍ مِّنَ الْمَلَائِكَةِ مُرْدِفِينَ)) [الأنفال: 9] ’’ جب تم لوگ اپنے رب سے فریاد کررہے تھے، تو اس نے تمہاری سن لی اور کہا کہ میں ایک ہزار فرشتوں کے ذریعہ تمہاری مدد کروں گاجو یکے بعد دیگرے اُترتے رہیں گے۔ ‘‘ چنانچہ اللہ نے فرشتوں کے ذریعہ اپنے نبی کی مدد کی۔ بنو سلمہ کا عمیر بن حمام نامی آدمی اپنے ہاتھ میں موجود کھجوریں کھاتا ہوا آگے بڑھا اور کہنے لگا: بَخ بَخ!(ہائے ہائے !)
Flag Counter