|
نہیں جب انہیں اللہ کا عذاب اپنی گرفت میں لے لے گا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹیاں:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں میں سے صرف دو سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اولاد ہوئی، خدیجہ رضی اللہ عنہ بنت خویلد قرشیہ سے جو آپؐ کی پہلی بیوی تھیں، اور ماریہ بنت شمعون قبطیہ مصریہ رضی اللہ عنھا سے جو آپؐ کی لونڈی تھیں۔ اِن دونوں کا ذکرِ خیر گزر چکا ہے۔
ماریہ رضی اللہ عنھا سے آپؐ کے صاحبزادے ابراہیم سن 8 ہجری میں مدینہ میں پیداہوئے، اور رضاعت کی مدت پوری ہونے سے پہلے ہی اللہ کو پیارے ہوگئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کی وفات کے وقت فرمایا: آنکھ آنسو بہا رہی ہے، اور دل غمگین ہے، لیکن ہم کوئی ایسی بات نہیں کہیں گے جو ربّ کو ناراض کر دے۔ اور ہم اے ابراہیم! تمہاری جدائی پر بہت ہی زیادہ غمگین ہیں۔ [1]
جب ابراہیم کی وفات کی خبر چاروں طرف پھیلی تو اُس وقت آفتاب کو گرہن لگا ہوا تھا۔ بعض مسلمانوں نے کہا: آفتاب کو ابراہیم کی وفات کی وجہ سے گرہن لگ گیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آفتاب وماہتاب کو کسی کی حیات یا موت کے سبب گرہن نہیں لگتا، تم لوگ جب گرہن دیکھو تو نماز پڑھو اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرو۔ [2]
سیّدہ خدیجہ رضی اللہ عنھا کے بطن سے ’’قاسم‘‘ مولود ہوئے، جن کے نام سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کنیت ’’ ابو القاسم‘‘ ہوئی۔ یہ بھی بچپن میں ہی وفات پاگئے۔ اور ’’عبداللہ‘‘ مولود ہوئے، جنہیں طیّب وطاہر کا لقب ملا، جیسا کہ علامہ ابن القیم رحمہ اللہ نے ذکر کیا ہے۔ [3] یہ بھی بچپن میں وفات پاگئے، اور مکہ میں مدفون ہوئے۔
سیّدہ خدیجہ رضی اللہ عنھا سے اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو چار بچیاں دیں، جن کے نام مندرجہ ذیل تھے: زینب، رقیہ، اُمّ کلثوم اور فاطمہ، ان چاروں نے اسلام کا زمانہ پایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کی، پھر ہجرت کرکے مدینہ منورہ گئیں۔ ذیل میں چند سطر یں اِن بیٹیوں کے بارے میں لکھی جارہی ہیں:
1۔ سیّدہ زینب رضی اللہ عنھا اپنی بہنوں کے ساتھ بڑی ہوئیں، اور اسلام سے قبل اپنے خالہ زاد ابو العاص بن ربیع سے بیاہی گئیں۔ اور اسلام آنے کے بعد اپنی ماں اور بہنوں کے ساتھ مشرّف باسلام ہوئیں۔ اُس وقت اُن کے شوہر ابو العاص تجارت کے لیے ملکِ شام گئے ہوئے تھے ، مکہ مکرمہ واپس آنے کے بعد انہوں نے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا۔
سیّدہ رقیہ، سیّدہ امّ کلثوم اور سیّدہ فاطمہ رضی اللہ عنھم ہجرت کر کے مدینہ پہنچ گئیں، اور زینب رضی اللہ عنھا مکہ میں ہی سخت غُربت وبیگانگی کی زندگی گزارتی رہیں۔ اور جب ابو العاص میدانِ بدر میں قیدی بنا لیے گئے تو زینب رضی اللہ عنھا نے ان کو آزاد کرانے کے لیے مال اور اپنے گلے کا وہ ہار بھیجا جو سیّدہ خدیجہ رضی اللہ عنھا نے انہیں رخصتی کے وقت دیا تھا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر اُس پر پڑی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دل بھر آیا اور صحابہ کرام کو مشورہ دیا کہ وہ ابو العاص کو اس شرط پر چھوڑ دیں کہ وہ زینب رضی اللہ عنھا کو مدینہ منورہ آنے کی اجازت دے دیں گے۔ چنانچہ سیّدہ زینب رضی اللہ عنھا ہجرت کرکے اپنے والد (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) اور اپنی بہنوں کے پاس آگئیں۔ کچھ دنوں کے بعد ابو العاص بھی مسلمان ہوکر مدینہ منورہ آگئے۔
|