Maktaba Wahhabi

337 - 704
میرے اوردخول جنت کے درمیان اتنا ہی وقفہ ہے کہ مجھے یہ لوگ قتل کردیں، پھر اس نے اپنے ہاتھ سے کھجوریں پھینک دیں اور اپنی تلوار لے کر لڑنے لگا، یہاں تک کہ قتل کردیا گیا۔ اُس دن عفراء کے بیٹے عوف بن حارث رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! بندے کی کس بات سے ربّ کو ہنسی آتی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دشمن کے خون میں ہاتھ کو ڈبونے سے۔ یہ سنتے ہی عوف رضی اللہ عنہ نے اپنی زِرہ نکال پھینکی اور اپنی تلوار سے لگاتار لڑتے رہے، یہاں تک کہ وہ شہید ہوگئے، اور عکاشہ بن مِحصن أسدی رضی اللہ عنہ میدانِ بدر میں اپنی تلوار کے ذریعہ جنگ کرتے رہے، یہاں تک کہ وہ تلوار ان کے ہاتھ میں ٹوٹ گئی، تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، آپ نے انہیں لکڑی کا ایک ٹکڑا دیا اور فرمایا: اے عکاشہ! اس سے لڑو، جب انہوں نے اسے ہاتھ میں لے کر ہلایا تو وہ لکڑی ایک لمبی، مضبوط اور سفید چمکدار تلوار بن گئی، اس سے وہ جنگ کرتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح ونصرت سے نوازا، اور اس تلوار کا نام ’’العون‘‘ پڑگیا، جو اُن کے پاس رہی، اسی کے ذریعہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تمام معرکوں میں جنگ کرتے رہے، یہاں تک کہ یمامہ کے مرتد ہونے والوں سے جنگ کرتے ہوئے شہید ہوگئے، انہیں طلیحہ أسدی نے قتل کردیاتھا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹھی بھر کنکری لے کر قریش کی طرف رخ کرکے کہا: یہ چہرے بدنما ہوجائیں، پھر اسے کافروں کی طرف پھونک دیا، جس سے ان میں سے ہر ایک کی آنکھیں بھرگئیں، اور مسلمان کافروں کو گاجر مولی کی طرح قتل کرنے لگے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ سے کہتے جاتے تھے: ان پر حملہ کرو، اب ان کی قسمت میں صرف شکست رہ گئی ہے، چنانچہ اللہ نے ان کے سرداروں میں سے جس کو چاہا قتل کروایا، اور جس کو چاہا پابندِ سلاسل بنایا، اور اللہ نے اسی مٹھی بھر کنکری کے پھینکنے کے بارے میں نازل فرمایا: ((وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَـٰكِنَّ اللَّـهَ رَمَىٰ)) [الأنفال: 17] ’’ اور(اے میرے رسول!)آپ نے ان کی طرف مٹی نہیں پھینکی بلکہ اللہ نے پھینکی تھی۔ ‘‘ [1] فرشتوں نے مشرکوں کو قتل کیا: قرآنِ کریم اور حدیثِ نبوی سے یہ بات ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے غزوۂ بدر میں مسلمانوں کی مدد کے لیے فرشتوں کو بھیجا اور فرشتوں نے کافروں سے جنگ کی، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ((وَلَقَدْ نَصَرَكُمُ اللَّـهُ بِبَدْرٍ وَأَنتُمْ أَذِلَّةٌ ۖ فَاتَّقُوا اللَّـهَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ ﴿123﴾ إِذْ تَقُولُ لِلْمُؤْمِنِينَ أَلَن يَكْفِيَكُمْ أَن يُمِدَّكُمْ رَبُّكُم بِثَلَاثَةِ آلَافٍ مِّنَ الْمَلَائِكَةِ مُنزَلِينَ ﴿124﴾ بَلَىٰ ۚ إِن تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا وَيَأْتُوكُم مِّن فَوْرِهِمْ هَـٰذَا يُمْدِدْكُمْ رَبُّكُم بِخَمْسَةِ آلَافٍ مِّنَ الْمَلَائِكَةِ مُسَوِّمِينَ ﴿125﴾ وَمَا جَعَلَهُ اللَّـهُ إِلَّا بُشْرَىٰ لَكُمْ وَلِتَطْمَئِنَّ قُلُوبُكُم بِهِ ۗ وَمَا النَّصْرُ إِلَّا مِنْ عِندِ اللَّـهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ)) [آلِ عمران: 123-126] ’’ اور اللہ نے میدانِ بدر میں تمہاری مدد کی، جبکہ تم نہایت کمزور تھے، پس تم لوگ اللہ سے ڈرو، تاکہ تم (اللہ کی
Flag Counter