|
بعض مشرکوں کا خون حلال کر دیا گیا:
انس رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ میں داخل ہوئے تو آپؐ کے سر پر خود تھا۔ آپؐ نے جب اسے اپنے سر سے اتارا تو آپؐ کو بتایا گیا کہ ابن خطل کعبہ کے پردے سے لٹکا ہوا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے قتل کردو۔ [1] اور مصعب بن سعد نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے لڑکے سے روایت کی ہے کہ فتحِ مکہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام لوگوں کے لیے امن کا اعلان کر دیا سوائے چار مردوں اور دو عورتوں کے، اِن کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں قتل کردو چاہے کعبہ کے پردے سے لٹکے ہوئے پائے جائیں: عکرمہ بن ابی جہل، عبداللہ بن خطل، مقیس بن صبابہ اور عبد اللہ بن سعد بن اَبی السرح۔
عبداللہ بن خطل کعبہ کے پردے کے ساتھ لٹکا ہوا پایا گیا، تو سعید بن حُریث اور عمار بن یاسر رضی اللہ عنھما دونوں اس کی طرف لپکے، سعید عمار رضی اللہ عنہ سے سبقت کرکے اس کے پاس پہنچ گئے اور اسے قتل کر دیا۔ مقیس بن صبابہ کو لوگوں نے بازار میں قتل کر دیا۔ عکرمہ کشتی پر سوار ہو کر بھاگ نکلا۔ کشتی آندھی کی زد میں آگئی تو کشتی والوں نے کہا: تم سب اِس وقت صرف اللہ کو پکارو، تمہارے معبود اس وقت کام نہیں آئیں گے۔ عکرمہ نے کہا: اگر ہمیں کشتی میں اللہ کے سوا کوئی چیز نجات نہیں دلا سکتی، تو کشتی کے باہر بھی اس کے سوا کوئی چیز نجات نہیں دلا سکتی۔ اے اللہ! میرا تجھ سے یہ عہد ہے کہ اگر تونے مجھے اس مصیبت سے نجات دے دی تو میں محمد( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس پہنچ کر اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں دے دوں گا، مجھے یقین ہے کہ وہ میرے ساتھ عفو وکرم کا معاملہ کریں گے۔ چنانچہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر اپنے اسلام کا اعلان کر دیا۔ اور عبداللہ بن سعد بن ابی السرح عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس جاکر چُھپ گیا، اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عام بیعت کا اعلان کیا، تو عثمان رضی اللہ عنہ نے اسے لاکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑا کر دیا، اور کہا کہ اے اللہ کے رسول! اس کی بیعت لے لیجیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھا کر اُس کی طرف تین بار دیکھا، اور ہر بار اس کی بیعت سے اعراض کیا، بالآخر تین بار کے بعد اس کی بیعت لے لی، اور صحابہ کرام کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: کیا تم میں کوئی ایسا سمجھدار نہیں تھا جو دیکھتا کہ میں نے اس کی بیعت سے اعراض کیا ہے، اس لیے اسے قتل کردیتا؟ صحابہ نے کہا: یا رسول اللہ! ہم آپ کے دل کی بات کیسے جان سکتے تھے، آپ نے اپنی آنکھوں سے اشارہ کیوں نہیں کردیا تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی نبی کے لیے یہ مناسب نہیں کہ وہ اپنی آنکھوں سے اشارہ کرے۔ [2]
سیّدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے والد ابو قحافہ کا قبولِ اسلام:
اَسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنھما کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتحِ مکہ کے موقع پر جب مکہ کے قریب مقامِ طُویٰ میں ٹھہرے ہوئے تھے، تو ابو قحافہ نے اپنی سب سے چھوٹی بیٹی سے کہا: بیٹی مجھے جبلِ ابو قبیس پر لے چلو، اس لیے کہ وہ نابینا تھے۔ جب وہ اس کے اوپر پہنچ گئے تو کہا: بیٹی، کیا دیکھ رہی ہو؟ اس نے کہا: میں لوگوں کی ایک بھیڑ دیکھ رہی ہوں۔ ابو قحافہ نے کہا: یہ گھوڑ سوار
|