Maktaba Wahhabi

656 - 704
صاحب عُلو اور صاحبِ عظمت ہے، اس کی کرسی آسمانوں اور زمین کو اپنی وسعت میں لیے ہوئی ہے۔ یہ آسمان وزمین اس کی عظمت وجلال سے ایسے چرچراتے ہیں جیسے نیا کجاوہ۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھے، اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھاکر بارش کے لیے دعا کی، اور اللہ نے اِس وفد کے علاقہ میں موسلادھار رحمت کی بارش بھیج دی۔ [1] 13 ۔ شاہانِ حمیر کا قاصد: غزوہ تبوک سے واپسی کے بعد ماہِ رمضان سن 9ہجری میں ملوک حِمیر کا قاصد مالک بن مُرّہ رہاوی آیا۔ وہ شاہان حارث بن عبد کلال، نعمان حاکم ذی رُعین، اور معافر اور ہمدان تھے۔ اِن بادشاہوں نے رہاوی کو اپنے اسلام لانے کی خبر اور شرک اور اہلِ شرک سے اپنے اعلانِ براء ت کے لیے بھیجا تھا۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کو ایک خط بھیجا جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کے حقوق وواجبات لکھ بھیجے، اور غیرمسلم ذِمِّیوں کو اللہ اور اس کے رسول کے عہد وذِمّہ کی خبر دی جب تک وہ جزیہ ادا کرتے رہیں گے۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے علاقہ میں دعوتِ دین کے لیے چند صحابہ کو بھیجا، اور اُن کا امیر معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو متعین کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زُرعہ ذی یزن کو مندرجہ ذیل خط لکھا: ’’اما بعد! محمد نبی نے زرعہ ذی یزن کو یہ لکھ بھیجا ہے کہ جب تمہارے پاس میرے قاصد آئیں، تو میں تمہیں ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنے کی وصیت کرتا ہوں۔ میرے وہ قاصد معاذ بن جبل، عبداللہ بن زید، مالک بن عبانہ، عقبہ بن نمر اور مالک بن مرارہ اور اُن کے اَصحاب ہیں۔ تم لوگ اپنی زکاۃ اور ذِمّیوں کا جزیہ جمع کرکے میرے نمائندوں کے پاس پہنچا دو، اور نمائندوں کا امیر معاذ بن جبل ہے۔ تو دیکھو وہ تمہارے پاس سے ناراض نہ واپس آئے۔ اما بعد! بے شک محمد گواہی دیتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ مالک بن مُرّہ اور رہاوی نے مجھے بتایا ہے کہ تم حمیر میں سب سے پہلے مسلمان ہوئے ہو اور تم نے مشرکوں کو قتل کیا ہے، تو میں تمہیں خیر کی بشارت دیتا ہوں، اور حمیر والوں کے ساتھ اچھا معاملہ کرنے کا حکم دیتا ہوں، اور دیکھو تم لوگ خیانت نہ کرنا، اور اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے میں سُستی نہ کرنا، بے شک اللہ کے رسول تمہارے مالدار وفقیر کے آقا ہیں، اور زکاۃ محمد اور آلِ محمد کے لیے حلال نہیں ہے، زکاۃ فقیر مسلمانوں اور مسافروں پر خرچ کی جاتی ہے، اور مالک نے ساری بات بتائی ہے، اور راز کی حفاظت کی ہے، اس لیے میں تمہیں اس کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنے کا حکم دیتا ہوں۔ اور میں نے تمہارے پاس اپنے نیک، دیندار اور اہلِ علم اصحاب کو بھیجا ہے، میں تمہیں اُن کے ساتھ اچھے معاملہ کا حکم دیتا ہوں، لوگوں کی اُن پر نگاہیں لگی ہیں۔ والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔‘‘ [2]
Flag Counter