Maktaba Wahhabi

509 - 704
ہی قربانی کردی تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھ پر ایک ایسی آیت نازل ہوئی ہے جو میرے نزدیک دنیا اور اس کی تمام نعمتوں سے زیادہ محبوب ہے۔ [1] حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے فتح الباری میں براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی مذکور بالا حدیث کے متعلق لکھا ہے کہ؛ ((إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِينًا))میں فتح سے مراد صلح حدیبیہ ہے، اس لیے کہ یہ فتح مبین کی ابتدا تھی، اُن بہتر نتائج کے سبب جو صلح پر مرتب ہوئے، یعنی حصولِ امن، جنگ کا ٹل جانا، اور جو لوگ اسلام میں داخل ہونے اور مدینہ آنے سے ڈرتے تھے، اُن کے لیے حالات کا سازگار ہونا، جیسا کہ خالد بن الولید اورعمرو بن العاص رضی اللہ عنھما اور اِن جیسے دیگر لوگوں کے ساتھ ہوا۔ پھر فتح مبین کے اسباب یکے بعد دیگرے مہیا ہوتے گئے یہاں تک کہ فتحِ مکہ کا مرحلہ مکمل ہوگیا۔ [2] اور ابن اسحاق نے اپنی کتاب المغازی میں زہری رحمۃ اللہ علیہ سے روایت کی ہے کہ اسلام میں فتح حدیبیہ سے قبل اس سے بڑی کوئی فتح نہیں تھی، کُفر تھا اور اُس سے جنگ تھی، اور اب جب تمام لوگ امن میں آگئے تو لوگ ایک دوسرے کے ساتھ بات کرنے لگے، اور آپس کے مسائل واختلافات سے متعلق کھل کر گفت وشنید کرنے لگے۔اور جن لوگوں نے اسلام سے متعلق کچھ بھی علم حاصل کرلیا تھا وہ تیزی کے ساتھ اسلام میں داخل ہونے لگے، اور دوسال میں اتنے لوگ مسلمان ہوئے جتنے اب تک ہوئے تھے، یا غالبا اِس سے بھی زیادہ۔ ابن ہشام کہتے ہیں: اوراس کی دلیل یہ ہے کہ حدیبیہ کے لیے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چودہ سو صحابہ گئے تھے، اور صرف دوسال کے بعد فتحِ مکہ کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم دس ہزار مسلمانوں کے ساتھ گئے۔ [3] علامہ ابن القیم رحمہ اللہ کہتے ہیں: یہ جنگ بندی عظیم ترین فتوحات میں سے تھی، اس کے نتیجہ میں لوگ اپنے آپ کو امن میں محسوس کرنے لگے، مسلمان کافروں کے ساتھ گھل مل گئے، انہیں اسلام لانے کی دعوت دینے لگے، قرآن کریم پڑھ کر انہیں سنانے لگے، اورعلی الإعلان پورے اطمینان کے ساتھ ان سے اسلام کے عقائد واعمال پر بحث ومناظرہ کرنے لگے، اور جو لوگ اب تک اپنا اسلام چھپائے ہوئے تھے، ظاہر ہوگئے، اور اللہ تعالیٰ نے جن کے لیے خیر کا فیصلہ کیا تھا وہ لوگ دائرہ اسلام میں داخل ہوگئے، اسی لیے اللہ نے اسے فتح مبین سے تعبیر کیا ہے۔ [4] خلاصۂ کلام: خلاصۂ کلام یہ ہے کہ صلح حدیبیہ کی حیثیت اسلام اور مسلمانوں کے لیے فتحِ مبین کی تھی۔ قریش کے لوگ اپنی مذہبی سیادت اور دنیوی ریاست کے سبب مسلمانوں کے وجود کا اعتراف کرنے کے لیے ذہنی طور پر ہرگز تیار نہیں تھے، اور اس معاہدہ سے پہلے تک اُن کی پوری کوشش رہی کہ وہ اسلام کے وجود کو ختم کردیں، اور اب حال یہ تھا کہ وہ اپنی سیادت وقیادت کو یکسر بھول گئے، اور انہیں اپنی جان بچانے کی فکر دامن گیر ہوگئی، اورحتی المقدور اُن کی کوشش ہونے لگی کہ کفارِ عرب مسلمانوں سے جنگ میںنہ الجھیں۔ اس لیے یہ معاہدہ مسلمانوں کے لیے ’’فتحِ مبین‘‘ تھا۔ مسلمانوں نے قریش کے کبروغرور کا خاتمہ کردیا تھا،
Flag Counter