Maktaba Wahhabi

310 - 611
مجھے دی ہے اس نے بس اتنی بزرگی کہ بندہ بھی ہوں اس کا ایلچی بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس پیغام سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جب قبرِنبوی صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ گاہ نہیں بن سکتی تو پھر دیگر افراد کی قبریں کس کھاتے میں آسکتی ہیں؟ اگر آپ نے اپنے ایمان کو سلامت رکھنا ہے تو صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی ذات سے ڈریں، اس کے علاوہ کسی اور سے ڈریئے نہ کسی سے کچھ مانگیے۔ قرآنِ کریم کی سورت آل عمران (آیت: ۱۰۲) میں اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو ارشاد فرمارہاہے: {یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ حَقَّ تُقٰتِہٖ وَ لَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ} ’’مومنو! اللہ سے ڈرو، جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے اور مرنا تو مسلمان ہی مرنا۔‘‘ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مومنو ں کو اپنی ذات سے ڈرنے کا حکم دیا ہے، لہٰذا یہ قبروں والے بزرگ کسی کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، کیونکہ سارے اختیارات اللہ وحدہٗ لا شریک کے ہاتھ میں ہیں، وہی نفع اور نقصان کا مالک ہے۔ جو لوگ اللہ تعالیٰ کو دوست بنا نے سے انکار کرتے ہیں اور اس کے علاوہ کسی اور کو دوست بناتے ہیں، وہ کون لوگ ہیں اور ان کا حشر کیا ہونے والا ہے؟ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ قرآن کریم کی سورۃ الکہف (آیت: ۱۰۲) میں اعلان فرما رہا ہے: { اَفَحَسِبَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اَنْ یَّتَّخِذُوْا عِبَادِیْ مِنْ دُوْنِیْٓ اَوْلِیَآئَ اِنَّآ اَعْتَدْنَا جَھَنَّمَ لِلْکٰفِرِیْنَ نُزُلًا} ’’کیا یہ کافر یہ سمجھے ہیں کہ مجھ کو چھوڑ کر میرے بندوں کو اپنا حمایتی بنائیں، ہم نے تو ان کے لیے دوزخ کی مہمانی تیا ر کر رکھی ہے۔‘‘ یہاں اللہ تعالیٰ اپنے نافرمانوں کے ٹھکانے کے متعلق فرما رہا ہے کہ جو لوگ اللہ کے علاوہ کسی اور کو کارسازبناتے ہیں یا اسے اپنا مدد گار سمجھتے ہیں، قیامت کے دن وہاں کوئی کسی کے کے کام نہیں آئے گا، نہ کوئی ولی اور نہ کوئی پیر۔کیونکہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان سب کو گواہی کے لیے جمع کر لے گا اور یہ وہاں کھلا انکار کر دیں گے، بلکہ اولیاء اللہ اور صالحین ان کے خلاف ہی گواہی دیں گے اور کہیں گے: اے اللہ! ہم نے انھیں کہا تھا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو اپنا دوست مت بناؤ،
Flag Counter